Homeہمارانصب العین

نصب العین

نصب العین
ادارہ فروغ ثقافت اسلامی پاکستان
البلاغ
ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای
کی نظر میں ثقافت و تہذیب،رسائل و جرائد اور الیکٹرانک میڈیا
 کے اہمیت پر ایک نگاہ:
٭تہذیب و ثقافت کی حفاظت (تہذیبی جنگ)بندوق و تلوار کی جنگ سے کہیں زیادہ سخت ہے۔
٭ریڈیو اور ٹیلی ویژن(یعنی میڈیا) کے شعبے کو چاہیے کہ وہ اغیار کی جبری تہذیب کواپنے حملوں کا نشانہ بنائے ۔
٭تہذیبی حملے اور ثقافتی حملے میں شور شرابہ نہیں ہوتا،لیکن اس میں سب سے زیادہ ہوشیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔
٭آج تبلیغ کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیئے۔
٭اپنے اہداف تک پہنچنے کے لئے اور انسانوں کے ارادں کو کو کنٹرول کرنے کے لئے میڈیاایک موثر ترین وسیلہ ہے۔
٭سچ اور حقیقت کو لوگوں کے ا ذہان تک پہنچانا ہماری تبلیغ ہے۔
٭اسلام میں تبلیغ کے معنی یہ ہیں کہ حقائق اسلام کو پوری دنیا تک پہنچایا جائے۔
٭دیکھنے اور سننے والوں کو اس بات کا عادی بنائیے کہ وہ ایک حقیقی ہنر کی تلاش میں رہیں ۔
٭اس عظیم اسلامی یونیورسٹی (ٹیلی ویژن سینٹر)کا کام بہت حساس ہے ۔

کلام ِ اقبال


دیں ہاتھ سے دے کراگر آزاد ہو ملت
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارہ
دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو اُبھارا
اللہ کو ہے پامردی مؤمن پہ بھروسا
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

Go to top